شاعری

زندہ رہنے کا سبب صرف عزا کوشی ہے

زود رنجی نہ کوئی زود فراموشی ہے
اعتدالِ غمِ شبیر ؑ سیہ پوشی ہے

منبرِ نوکِ سناں پر ہے خطابِ شبیر ؑ
بھرے بازار میں جبرئیل ع سے سر گوشی ہے

مسخ ہوتی ہوئی تصویرِ خلافت میں فقط
ایک شطرنج ہے اک تخت ہے مے نوشی ہے

زینہ با زینہ رواں فزت برب الکعبہ
اک امامت پہ امامت کی سبکدوشی ہے

حُریّت نے جو اذاں سنتے ہی کروٹ لی ہے
ہوش مندی سے فزوں تر یہی مدہوشی ہے

ہے کوئی اور فداکارِ الٰہ مثلِ حسین ؑ
چودہ صدیوں سے اسی نام پہ خاموشی ہے

زندگی اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اکبر
زندہ رہنے کا سبب صرف عزا کوشی ہے

 

Views All Time
Views All Time
499
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:  آئینہ میں نے دیکھا تو اکثر ہوا گمان

Leave a Reply