اسلامبلاگ

حرؑ بن یزید الریاحی: بیداریِ ضمیر کا کربلائی معرکہ

میدان سج چکا تھا۔ عمر بن سعد کا اشارہ ہو چکا تھا، اور فرات کا پانی، جو خدا کی مخلوق کے لیے ہمیشہ سے رحمت رہا، اب نواسۂ رسولؐ کے خیموں کے لیے ممنوع ٹھہرایا جا چکا تھا۔ مذاکرات کا دور ختم ہو چکا تھا اور جس جنگ کا امام حسین ؑ کو پہلے ہی یقین تھا وہ اصحاب ِ حسین ؑ کے سامنے بھی اب حقیقت کا روپ دھارے کھڑی تھی۔ ایسے میں لشکرِ یزید کے ایک گوشے میں ایک سوار، جو کبھی اسی لشکر کا فخر تھا، کانپنے لگا۔ مہاجر بن اوس نے اپنے قبیلے کے اس بہادر کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ یہ وہی حرؑ بن یزید الریاحی تھا جس کی شجاعت کا چرچا کوفہ کی گلیوں میں تھا۔ جس کا نام لیے بغیر کسی محفل میں بہادری کی بات مکمل نہ ہوتی تھی۔ مگر آج اس کا جسم لرز رہا تھا، جیسے کسی اور ہی جنگ کا سامنا ہو، ایک ایسی جنگ جو تلواروں سے نہیں، ضمیر سے لڑی جا رہی تھی۔

"اے حرؑ، تجھے کیا ہوا؟” مہاجر نے پوچھا۔ "خدا کی قسم، تیری یہ حالت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ اگر کوئی پوچھتا کہ کوفہ کا سب سے دلیر سوار کون ہے، تو میں تیرا ہی نام لیتا۔ پھر یہ کپکپی کیسی؟”

 حرؑ بن یزید الریاحی ؑکی آنکھوں میں ایک ایسی روشنی  موجزن ہو چکی تھی جو اس کے دل کے اندر برپا ہونے والے طوفان کو ایک حق کی سمت موڑنے کا عندیہ دے رہی تھی۔ حرؑنے کہا: "خدا کی قسم، میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے عین درمیان کھڑا پا رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم، میں جنت کے بدلے کسی چیز کو اختیار نہیں کروں گا، چاہے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا زندہ آگ میں جھونک دیا جائے۔”

یہ کہنا تھا کہ گھوڑے کو ایڑ لگائی اور وہ سوار جو کبھی حسینؑ کا راستہ روکنے آیا تھا اب اسی حسینؑ کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ لیکن اب صورت حال اس سے بالکل مختلف تھی جب اس نے حسین ؑ کی سواری کو پکڑ کر روکا تھا۔ اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے، آنسوؤں میں ڈوبا، وہ بلند آواز سے پکار رہا تھا: "بارِ الٰہا! میں تیری طرف لوٹ آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما! میں نے تیرے دوستوں کے دل دہلائے، تیرے نبیؐ کے فرزند کو خوف میں مبتلا کیا۔”

یہ بھی پڑھئے:  اردو کے ہندو مرثیہ گو شعراء

خیمۂ حسینی کے قریب پہنچ کر اس نے عرب کی روایات کے مطابق امان اور سپردگی کا اعلان کرنے کے لیے اپنی ڈھال الٹا دی۔ حرؑگھوڑے سے اترا، سر کو  جھکایا، اور روتے ہوئے عرض کیا: "السلام علیک یا ابن رسول اللہﷺ! میں وہی حرؑ ہوں جس نے آپ کا راستہ روکا، آپ کو مدینہ لوٹنے نہ دیا، اور اس بے آب و گیاہ زمین پر اتار دیا۔ مجھے گمان بھی نہ تھا کہ یہ قوم آپ کے ساتھ یوں پیش آئے گی، آپ کی شرطیں بھی ٹھکرا دے گی۔ مولا! میں اپنے گناہوں پر نادم ہوں، توبہ کرنے آیا ہوں، اپنی جان آپ پر وار دینا چاہتا ہوں۔ کیا میری توبہ کے لیے کوئی راہ ہے؟”

سخی  ابنِ سخی امام حسینؑ نے اپنے اس نووارد مہمان کو دیکھا،  رحمت العالمین ﷺ کی وراثت میں ملی ہوئی رحمت  بھری اس نگاہ سے جس میں ساری کائنات کی شفقت سمٹ آئی تھی  اور فرمایا: "ہاں، اللہ تیری توبہ قبول فرمائے گا اور تجھے بخش دے گا۔ اتر جا، آرام کر لے۔” مگر حرؑ کا دل اب اس دنیا کی کسی راحت کا طلبگار نہ تھا۔ عرض کی: "مولا! میں نے ہی سب سے پہلے آپ کے خلاف گھوڑا نکالا تھا، اجازت دیجیے کہ آج آپ کی طرف سے میدان میں جانے والا سب سے پہلا میں ہی بنوں۔”

اجازت ملی، اور حرؑبن یزید الریاحی میدان میں آ کھڑا ہوا۔ اس لشکر کے سامنے جس میں کل تک وہ خود شامل تھا، اس نے للکار کر کہا: "اے اہلِ کوفہ! تم نے ہی اس صالح بندے کو بلایا، وعدہ کیا کہ ہم اپنی جانیں تجھ پر نچھاور کریں گے۔ آج جب وہ آ گیا تو تم نے اسے گھیر لیا، اس کا راستہ روک دیااور فرات کا وہ پانی جو یہودی، نصاریٰ اور مجوسی بھی پیتے ہیں، جس میں خنزیر تک غوطے لگاتے ہیں  اسے اس کی عورتوں اور معصوم بچوں پر بند کر دیا۔ تم نے رسول اللہؐ کی عترت کے ساتھ کیسا ظلم روا رکھا!”

یہ بھی پڑھئے:  راحت قلب کا نسخہ

نصیحت کا جواب نصیحت سے نہیں، تیروں کی بارش سے دیا گیا۔ حرؑ نے تلوار تھامی اور ایسی جانفشانی سے لڑا کہ کوفہ کے کئی نامور سورما خاک میں مل گئے۔ مگر دشمن کثیر تھا، گھیرا تنگ ہوتا گیا، اور آخرکار اس کا گھوڑا زخموں سے چور ہو کر گر پڑا۔ حرؑ پیادہ ہو کر بھی لڑتا رہا، یہاں تک کہ زخموں نے اسے زمین پر لا پٹخا۔

 اور پھر تاریخ نے وہ انوکھا منظر اپنے صفحات میں محفوظ کیا جو بے مثال تھا۔  امام حسینؑ خود اپنے اس تائب، اس سچے توبہ کرنے والے کے سرہانے آ بیٹھے۔ سانسیں اکھڑ رہی تھیں، چہرہ خون اور خاک سے اَٹا تھا۔ امامؑ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کے چہرے سے گرد صاف کی، زخم پر پٹی باندھی، اور تڑپ کر فرمایا”تم ویسے ہی حرؑ ہو، آزاد، جیسا تمہاری ماں نے تمہارا نام رکھا تھا۔ دنیا میں بھی آزاد، اور آخرت میں بھی سرخرو۔”

اور اسی لمحے،اپنے امامِ وقت ؑکے زانو پر سر رکھے ہوئے جنابِ حرؑ بن یزید الریاحی نے آخری سانس لی۔ اس یقین کے ساتھ کہ جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا ہونے والا وہ سوار، بالآخر اپنی منزل پا چکا تھا۔

مآخذ: یہ تحریر مقتلِ ابی مخنف، الارشاد (شیخ مفیدؒ) اور اللہوف (سید ابن طاؤسؒ) جیسی مستند تاریخی کتب کی روایات سے ماخوذ ہے۔

Views All Time
Views All Time
136
Views Today
Views Today
1
mm

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

Leave a Reply