شاعری

حُر ؑ کو حسین ؑ شہرِ شہیداں میں لے گیا

ذرے کو ماہتاب شبستاں میں لے گیا
حُر ؑ کو حسین ؑ شہرِ شہیداں میں لے گیا

کہنے کو سنگ و خشت کے زنداں میں لے گیا
قرآن اپنی آیتیں جزداں میں لے گیا

اک شیر خوار دستِ تبسم سے تھام کر
ناممکنات کو حدِ امکاں میں لے گیا

سورج کو کیا چراغ دکھاتا فریبِ شام
نیزوں کو آفتاب چراغاں میں لے گیا

سجدے چلے مدینے سے تلواریں شام سے
جو جس کا اسلحہ تھا وہ میداں میں لے گیا

وہ لے گیا ہے چادرِ تطہیر اپنے ساتھ
اپنا کفن جو ساتھ نہ ساماں میں لے گیا

چُلُّو کی بات اصل میں کرب وبلا کی تھی
ایسا خدا کا دل ہوا قرآں میں لے گیا

اکبر ہے ناخدا کی عجب منزلِ یقیں
اپنا سفینہ موت کے طوفاں میں لے گیا

 

Views All Time
Views All Time
795
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:  اوجِ امکانِ بشر کا سلسلہ ہے کربلا

Leave a Reply