Author: حیدر جاوید سید

کالم

بنگلہ دیش – حسینہ واجد کی جگہ فوج

ر بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے نے اس صورتحال کے پیچھے پاکستان کی موجودگی ’’ثابت‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی یاد گاروں، آبائی گھر و مجسموں کو حرف غلط کی طرح مٹواکر پچاس برسوں سے لگی آگ بجھانے کا سامان کرلیا۔

Read More
کالم

سوات میں سٹریٹ جسٹس کا ننگا ناچ – حیدر جاوید سید

ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے شخص کے ساتھ  ہوا کیا تھا کہ اس کی اور ہوٹل مالک یا منیجر سے تلخی کس امر پر ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بات اس قدر سنگین تھی جس کی پردہ پوشی کے لئے توہین قرآن کا الزام اچھالا گیا۔

Read More
کالم

رعایا پر بجٹ حملہ

آپ دیکھ لیجئے کہ سول انتظامیہ کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 839 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اور ڈیفنس پنشن 662 ارب روپے ہے۔ میں چونکہ اب بوڑھا ہوگیا ہوں اس لئے مختلف دفاعی و جاسوسی کی مدوں میں ’’انڈر دی ٹیبل‘‘ دی جانے والی سالانہ رقم کے حساب سے ہی بھاگتا ہوں جوانی میں تو تفصیلات لکھ دیا کرتا تھا کالم یا اداریہ میں، خیر جوانی دیوانی ہوتی ہے تب آپ پہاڑ سے بھی ٹکراجاتے ہیں بوڑھاپے میں لاٹھی ٹیک کے چلتے آدمی پر احتیاط واجب ہے۔

Read More
کالم

پیغام ِ فریدؒ… ‘‘اپنی نگری آپ وسا توں‘‘

 لاریب نسب نامہ اہمیت رکھتا ہے لیکن کیا کوئی قادرالکلام، صاحب فکر، آزادی پسند، مدبر، عالم، فلسفی اور شاعر اس کا محتاج ہے کہ اگر نسب کسی بڑے عربی قبیلے سے نہ ملا تو اس کی بڑائی اور سچائی صدیوں کی دھول سے اٹ جائے گی؟

Read More
کالم

منڈیوں کی ثقافت اور مصنوعی سماج

ایک دن ایک سید ذات کے اعلیٰ افسر شکایت لے کر تشریف لائے۔ چائے پی چکے تو بولے آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ میرے سید بھائی ہیں۔ عرض کیا شکایت تو بتائیں۔ بولے آپ کے فلاں رپورٹر نے مجھے بلیک میل کرکے 25 ہزار روپے لئے ہیں۔ متعلقہ رپورٹر کو اپنے کمرے میں بلاکر ان سے الزام کی بابت دریافت کیا۔

Read More
کالم

ایک اور نجی چینل بند ہوا

کبھی کبھی لوگ اپنے کاروبار کے تحفظ اور میڈیا ہاؤس کا مالک بننے کےلئے  بھی اخبار نکالتے ہیں مثلاً راولپنڈی کے ایک معروف پراپرٹی ڈیلر نے بعض اخبارات کے مالکان کی بلیک مینگ سے تنگ آکر پہلے اپنا ماہنامہ شروع کیا پھر روزنامہ نکالا۔ دوپہر کا اخبار بھی نکال لیا تھا لشکر کے نام سے

Read More
کالم

نظریہ ناکام ہوتا ہے یا نظریہ ” ساز ” ؟

بہت شوق سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سوشلزم ناکام ہوا اب سرمایہ داری کا جنازہ اٹھنے کو ہے۔ اگر ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دریافت کرلیا جائے کہ کیا اموی ، عباسی، فاطمی اور عثمانی خلافتوں کے زوال کو اسلام کی ناکامی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے تو آستینیں الٹ کر جھاگ اڑاتے ہوئے سوال کرنے والے کی جان کو آجاتے ہیں۔( یہ سوال تو قابلِ گردن زدنی ہے کہ خلافت راشدہ کے پانچ میں چار خلفا غیر طبعی طور پر دنیا سے کیوں رخصت ہوئے ؟ ) 

Read More
کالم

افغان عبوری حکومت کی منافقانہ پالیسی

پچھلے دو اڑھائی برسوں کے دوران پاک افغان سرحد پر خاردار تاروں کو کاٹ کر دراندازی کرنے والوں کو افغان عبوری حکومت کے علاقائی ذمہ داروں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس عرصے میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو وائرل ہوئیں جن میں افغان عبوری حکومت کے بعض ذمہ داران اٹک تک کے علاقے پر افغانستان کے دعوے کو دہرارہے ہیں۔

Read More
کالم

جنرل ضیاء کا سیاہ دور – تین جماعتوں کی کہانی (قسط:8)

کچھ کے مقدمات خوف و ہراس پیدا کرنے کے لئے سمری ملٹری کورٹس سے خصوصی فوجی عدالتوں میں بھجوادیئے گئے۔ سمری ملٹری کورٹس کی سربراہی ایک میجر کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک سال تک قید بامشقت تین لاکھ روپے جرمانہ اور دس کوڑوں کی سزا دینے کے اختیارات ہوتے تھے۔

Read More
کالم

ضیاء دور کے قصے اور لطیفے – تین جماعتوں کی کہانی (قسط:7)

ضیاء کی فوجی حکومت میں دو باتیں مشہور ہوئیں۔ اولاً چوہدری ظہور الٰہی کا جنرل ضیاء الحق سے وہ قلم تحفتاً مانگ لینا جس سے انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھانے کی سزا کی حتمی توثیق کی تھی۔ ثانیاً وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر جنرل جمال سید میاں اور جنرل ضیاء الحق کے درمیان فرقہ وارانہ عقائد کے مسئلہ پر ہونے والی تلخی۔

Read More
کالم

90 دن بنے 11 سال – تین جماعتوں کی کہانی (قسط :6 )

جنرل ضیاء الحق عمرے کے لئے سعودی عرب گئے۔ وہاں بیت اللہ کے صحن میں پاکستانیوں کے ایک گروپ نے انہیں گھیر کر ان سے سوالات کئے۔ ان سوالات کے جواب میں انہوں نے حسب وعدہ 90 دن میں الیکشن کراکے بیرکوں میں واپس جانے کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ ایک بار پھر کہا کہ۔۔۔

Read More
کالم

اور مارشل لاء آگیا – تین جماعتوں کی تاریخی کہانی (قسط:5)

وہ ایک طرف تو درخواست کرکے اٹک کی اس فوجی عدالت کا سربراہ بنے جس نے بھٹو کے خلاف ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے کرداروں کے خلاف مقدمے کی سماعت تھی، دوسری انتہا نواب صادق حسین قریشی کے ملتان والے گھر ’’وائٹ ہاؤس‘‘ میں بھٹو کے جوتوں کا تسمہ باندھنا تھا۔

Read More
سیاستکالم

پیپلزپارٹی سے 11 سوال | حیدر جاوید سید

سیاسی جماعت اور شخصیات یقیناً کسی کے پابند ہیں نہ جواب کے لئے زور زبردستی کی جاسکتی ہے ۔ جہاں تک انتخابی عمل کے مختلف مراحل میں کئے جانے والے دعوؤں کا تعلق ہے تو یہ دعوے انتخابی اکھاڑے میں موجود سبھی پہلوان جماعتیں کرتی ہیں

Read More
کالم

بھٹو مخالف سیاسی اتحاد – تین جماعتوں کی تاریخی کہانی (قسط:4)

اس احتجاجی تحریک کے دوران پاکستان میں امریکہ اور برطانیہ کے سفیروں کی پھرتیاں دیکھنے والی رہیں۔ امریکی سفیر نے 15 فروری 1977ء سے اپریل 1977 کے دوران چاروں صوبائی دارالحکومتوں کے متعدد دورے کئے اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ امریکی سفیر اور ا صغر خان کی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکی سفیر کی پھرتیوں، دوروں اور اپوزیشن رہنماؤں سے مسلسل رابطوں بالخصوص اصغر خان سے ملاقاتوں کی بدولت یہ رائے قائم ہوئی کہ پی این اے کی بھٹو مخالف تحریک کے پیچھے امریکہ بہادر بہ نفس نفیس موجود ہے۔

Read More