شاعری

فرحت عباس شاہ

یہ دل، یہ جان، یہ خواب و خیال کس کا ہے
لُٹا لُٹایا ہوا سب یہ مال کس کا ہے
کوئی تو بات تھی اسی مری گدائی میں
کہ اس نے چونک کے پوچھا سوال کس کا ہے
لہو کی کوئی خلش، یا کسی کی کاریگری
رگِ گلاب سے دل تک کمال کس کا ہے
ہمی کو بخش کے حسنِ جہانِ رنگ و بُو
ہمی سے پوچھ رہے ہو جمال کس کا ہے
جنم جنم میں بچھڑتے ہیں ہم بھلا کس سے
قدم قدم پہ جہاں میں وصال کس کا ہے
یہ کون ہے جو مِری حد کے پار سوچتا ہے
مرے خیال سے ارفع خیال کس کا ہے (فرحت عباس شاہ)
Views All Time
Views All Time
869
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:  عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی - اختر سردار چودھری

Leave a Reply